ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلورو کے جے سی نگر میں بی جے پی کے مبینہ کارکن کا قتل علاقہ میں حالات کشیدہ

بنگلورو کے جے سی نگر میں بی جے پی کے مبینہ کارکن کا قتل علاقہ میں حالات کشیدہ

Fri, 02 Feb 2018 19:42:50    S.O. News Service

بنگلورویکم فروری (ایس او نیوز)  بنگلورو کے جے سی نگر چنپا گارڈن علاقہ میں بیکری سے قریب کل رات بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) یوا مورچہ کے کارکن 28سالہ سنتوش کے قتل کے واقعہ کے بعد اس علاقہ میں کشیدگی پھیلنے پر پولیس کا معقول بندوبست کیا گیاہے۔ کرناٹک اسٹیٹ ریزرو پولیس ( کے ایس آر پی ) کی تین ٹکڑیاں بندوبست کے لئے تعینات کی گئی ہیں ۔ مقتول سنتوش کے پوسٹ مارٹم کے بعد لاش رشتہ داروں کے حوالے کی گئی۔ لاش کو سنتوش کے مکان کے باہر رکھ کر بی جے پی لیڈر اور کارکنوں نے سخت احتجاج کیا اور وزیر داخلہ رام لنگاریڈی، شہر کے پولیس کمشنر ٹی سنیل کمار یا کسی بھی وزیر کے یہاں آنے کی مانگ کی۔صبح 11.30بجے ایمبولینس کے ذریعہ لائی گئی لاش کو سنتوش کے مکان کے باہر ہی رکھ کر بی جے پی لیڈروں نے احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے ریاست کے کسی وزیر کو یہاں پہنچ کر معاوضہ کا اعلان کرنے کی پرزور مانگ کی اور جب تک کوئی بھی وزیر یہاں نہیں پہنچے گا لاش کی آخری رسومات ادانہ کرنے کی ضد پر اڑے رہے ۔ مقتول کی ماں سمیت اس کے رشتہ داروں نے بھی احتجاج کے لئے اپناتعاون کیا۔ احتجاجی مظاہرین نے مقتول کے ورثاء کو 5لاکھ روپیوں کا معاوضہ جاری کرنے کے علاوہ قاتلوں کو سخت سے سخت سزا دینے کی مانگ کی۔ اس دوران سابق نائب وزیراعلیٰ آراشوک نے کہا کہ مقتول سنتوش کے تمام قاتلوں کی گرفتاری عمل میں لاتے ہوئے مقتول کے ورثاء کومعاوضہ جاری کیا جائے ۔ آر اشوک نے بتایا کہ جب سے ریاست میں کانگریس حکومت براسرقتدار ہے اب تک ریاست میں 20سے زائد ہندو تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کے قتل ہوچکے ہیں۔ اس کے لئے کانگریس لیڈر ہی ذمہ دار ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت ہندو تنظیموں کے کارکنوں کے قتل کے معاملات میں ملوث قاتلوں کی پشت پناہی کرنے لگی ہے اور سیاسی مفادات کے لئے کانگریس حکومت ملزمین کی تائید کرنے لگی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں ریاستی عوام انہیں صحیح سبق سکھائیں گے ۔ اس علاقہ میں حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر آف پولیس ( ڈی سی پی ) چیتن سنگھ راتھوڑ کی زیر نگرانی پولیس کا سخت بندوبست کیا گیا ہے ۔ سنتوش کا وکٹوریہ اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے بعد چنپا گارڈن میں موجود اس کے گھر لاش لائی گئی۔ لاش کو ایمبولینس سے نیچے اتار کر سڑک پر رکھتے ہوئے احتجاج کرنے کی کوشش کی گئی۔لیکن پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے لاش کوسڑک پر رکھنے کے بجائے مکان کے سامنے رکھنے کی گزارش کی۔ جس کے بعدلاش سنتوش کے مکان کے سامنے آخری دیدار کے لئے رکھی گئی۔ یاد رہے کہ چنپا گارڈن کی بیکری سے قریب کل رات 4؍ افراد سنتوش پر حملہ کرکے فرار ہوچکے تھے جس کے بعد سنتوش زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا تھا۔ سنتوش کے قتل کی خبر ملنے کے بعد اس کے کنبہ اور رشتہ داروں کے علاوہ بی جے پی لیڈر او رکارکنوں نے جے سی نگر پولیس تھانے کے سامنے احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کی مانگ کی۔ جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے وسیم اور فلپس نامی دو نوجوانوں کو گرفتار کرلیا اور آج مزید دو افراد عمر اور عرفان کی بھی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔مقتول کابیاہ6ماہ قبل ہی ہوا تھا۔ ڈی سی پی چیتن سنگھ نے بتایاکہ پولیس جانچ سے پتہ چلا ہے کہ مقتول کا قتل بیانر باندھنے کے معاملے کو لے کر نہیں بلکہ منشیات گانجہ کے معاملے کو لے کر ہوا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سنتوش کا ذاتی دشمنی کولے کرقتل کیا گیا ہے ۔کل گرفتار دو افراد نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے یہ بات بتائی ہے ۔ پولیس جانچ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مقتول بی جے پی کارکن نہیں تھا اس کا بڑا بھائی بی جے پی کا رکن ہے ۔ وسیم اور سنتوش کے درمیان شراب نوشی کے معاملے پر کئی مرتبہ جھگڑا ہوچکا تھا۔ پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کل بھی اسی بات کو لے کر جھگڑے کے دوران سنتوش پر حملہ کیاگیاتھا۔ جے سی نگر پولیس نے معاملہ درج کرلیا ہے اور 4؍ افراد کی گرفتاری عمل میں لا کر مزید جانچ کررہی ہے۔قتل کی واردات کے بعد جے سی نگر اورچنپا گارڈن علاقہ میں حالات کشیدہ ہیں اور یہاں پولیس کا سخت بندوبست کیا گیا ہے۔جے سی نگر اور چنپا گارڈن علاقہ میں حالات کشیدہ رہنے کی وجہ سے دوپہر سے قبل ہی اسکولوں اور کالجوں کو چھٹی دے دی گئی اور علاقے کی تمام دکانیں بند رہیں۔


این آئی اے کے ذریعہ جانچ کا مطالبہ: کرناٹک میں بی جے پی نےبنگلوروشہر میں بدھ کو ہوئے بی جے پی کے 28سالہ کارکن کے بہیمانہ قتل کی این آئی اے کے ذریعہ جانچ کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ جمعہ کو کانگریس حکومت کے خلاف بی جے پی کارکن کے قتل کی سلسلہ میں ریاست گیر احتجاج شروع کرے گی۔ اس قتل کو سیاسی قتل قرار دیتے ہوئے سابق نائب وزیراعلیٰ آر اشوک نے کہا کہ موافق دہشت گرد تنظیمیں جیسے پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی اس قتل کے پس پردہ محرکات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قتل کے بعد حالیہ عرصہ میں بی جے پی اور دیگر موافق ہندو تنظیموں کے کارکنوں کے قتل کی تعداد 23ہوگئی ہے ۔انہو ں نے کہا کہ کانگریس حکومت مزید کتنے بی جے پی ورکرس کا قتل کرنا چا ہتی ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ کل سے ریاست گیر احتجاج شروع کرے گی ۔


Share: